Wednesday, December 22, 2010

مغربی ۔ سرمایادارانہ جمھوریت دراصل طبقاتی آمریت ھے ۔

مغربی ۔ سرمایادارانہ جمھوریت دراصل طبقاتی آمریت ھے ۔  معاشی مساوات کے بغیر حقیقی جمھوریت قاءم ھو ھی نھیں سکتی ۔
پاکستان اور بھارت کی جمھوریت بلکہ امریکہ اور
-یورپ کی نام نہاد جمھوریتیں بھی ایک ڈھکوسلا
  محض ایک ڈھونگ ھیں ۔

17 comments:

  1. PLEASE SPREAD THIS MESSAGE AE MUCH AS YOU CAN.SEND IT ON FURTHER
    E- MAILS,ADDRESSES.
    THIS IS A DENI AND MULKEY
    SERVICE.
    FARMULA 10/10, INSTEAD
    OF R G S T,
    AGAR AAP KO PAKISTAN KAY GHARIB AWAM KAY SATH ZARA BHI HAMDARDI HAY TOO ISAY NASHAR / SHAYA KARAN, AUR ALLAH KAY HAN SAWAB KAMAIN. GHARIBOON KI BAD DUA SAY BACHAIN.
    ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات سے تو بے نظیر بھٹو نے ہی ۔1988 میں یو ٹرن لے لیا تھا
    میں نے آج سے دو سال پھلے ایک فارمولا FARMULA 10/10
    پیش کیا تھا ۔ مگر کسی سیاسی پا رٹی نے اسے نھیں اپنایا ۔
    دراصل یھ سب کے سب مفاداتی گروپس ھیں ۔اور نورا کشتی کر رھے ھیں ۔پاکستان کے عوام جب تک اپنے اندر سے قیادت نھیں پیدا کریں گے اسی طرح پستے رھیں گے عوام کی قسمت بدل سکتی ھے پاکستان کی قومی خودمختاری بحال ھوسکتی ھے سیلاب زدگان مکمل بحال ھو سکتے ھیں ۔
    FARMULA 10 /10
    عوام کے بے حد ہمدرد ڈالر ارب پتی سیاستدان - جان وارنے والے ۔ زمین آسمان کے قلابے ملانے والے اور پاکستان کے سرکردہ دس ہزار امیر ترین لوگ اپنی دولت کا دس فی صد پاکستان کے قرضے اتارنے کے لیے دیں ۔اور آئندہ کے لیے قرضے نھ لینے کا عہد کیا جائے ۔اور لوٹ مار بند کی جائے تو عوام کی قسمت بدل سکتی ھے ۔ پاکستان کی قومی خودمختاری بحال ھو سکتی ھے ۔

    عوام کے ھمدرد ان ڈالر ارب پتی حکمرانوں کو عوام کا کچھ تو خیال ھونا چاھیے

    SHAUKAT ALI KHAN

    ReplyDelete
  2. کیا وجھ ھے کھ ٹیوی چینلز کو بیک وقت دو شادیاں کرنے والا نوجوان تو نظر آ جاتا ھے مگر عوام کی خاطر فارمولا ٹین باءے ٹین FARMULA 10/10
    نظر نھیں آتا
    ================================


    مغربی ۔ سرمایادارانہ جمھوریت دراصل طبقاتی آمریت ھے ۔ معاشی مساوات کے بغیر حقیقی جمھوریت قاءم ھو ھی نھیں سکتی ۔
    پاکستان اور بھارت کی جمھوریت بلکہ امریکہ اور
    -یورپ کی نام نہاد جمھوریتیں بھی ایک ڈھکوسلا
    محض ایک ڈھونگ ھیں ۔

    ان ممالک میں بالا دست طبقات پردے کے پیچھے بیٹھھ کراصل حکومت کرتے ھیں ۔آگے تو محض کٹپتلیاں ھوتی ھیں ۔عوام کا تو بس نام ھی ھوتا ھے ۔ ان بالا دست طبقات کے ہاتھھ میں ریڈیو ۔ ٹیوی ۔اور پریس کی چابیاں ھوتی ھیں ۔جس طرح کی چابی انھیں دیتے ھیں اسی طرح کی خبریں ۔تبصرے نشر کیے جاتے ھیں ۔ورنہ کیا وجھ ھے کھ ٹیوی چینلز کو بیک وقت دو شادیاں کرنے والا نوجوان تو نظر آ جاتا ھے مگر عوام کی خاطر فارمولا ٹین باءے ٹین نظر نھیں آتا ۔

    FARMULA 10/10
    پاکستان کے بالادست طبقے جن میں بیروکریسی ۔ وڈیرے ۔ چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں ۔ وغیرہ اتنے سادہ نھیں ھیں جتناآپ نے سمجھ لیا ھے ۔یھ لوگ پاکستان کو توڑ دیں گے مگر عوام کو
    ۔کوءی سھولت نھیں دیں گے ۔یھ سب کھچھ
    جو یھ کر رھے ھیں ان کے لیے تو ایک کھیل تماشے
    سے کم نھیں ھے
    لیکن پاکستان کے ٹوٹ جانے سے عوام کا بھت بڑا بھاری نقصان ھو گا ۔
    اتنا
    بڑا نقصان کھ کءی نسلیں روتی رھیں گی ۔لیکن پاکستان کے غافل لوگوں کو تو اس بات کا احساس
    تک نھیں ھے ۔
    اس بات کا اندازہ میں نے اس سے لگایا ھے کھ
    سواے ھماری اپنی ویب کے کسی ٹیوی یا اخبار نے میرے ٹین باے ٹین فارمولا کو نشر ۔ شاءع نھیں
    کیا
    اورنھ ھی کسی فرد نے مجھے کوءی جواب دیا ۔
    اور نھ ھی عمران خان جمعاعت اسلامی اور
    ایم قیو ایم سمیت کسی سیسی پارٹی نے رابطھ کیا ۔صاف ظاھر ھے کھ یھ لوگ بھی صرف عوام کو دھوکہ دینا چاھتے ھیں ۔
    میں نے آج سے دو سال پھلے ایک فارمولا FARMULA 10/10
    پیش کیا تھا ۔ مگر کسی سیاسی پا رٹی نے اسے نھیں اپنایا ۔
    دراصل یھ سب کے سب مفاداتی گروپس ھیں ۔اور نورا کشتی کر رھے ھیں ۔پاکستان کے عوام جب تک اپنے اندر سے قیادت نھیں پیدا کریں گے اسی طرح پستے رھیں گے عوام کی قسمت بدل سکتی ھے پاکستان کی قومی خودمختاری بحال ھوسکتی ھے سیلاب زدگان مکمل بحال ھو سکتے ھیں ۔
    FARMULA 10 /10
    عوام کے بے حد ہمدرد ڈالر ارب پتی سیاستدان - جان وارنے والے ۔ زمین آسمان کے قلابے ملانے والے اور پاکستان کے سرکردہ دس ہزار امیر ترین لوگ اپنی دولت کا دس فی صد پاکستان کے لیے دیں ۔اور آئندہ کے لیے قرضے نھ لینے کا عہد کیا جائے ۔اور لوٹ مار بند کی جائے تو عوام کی قسمت بدل سکتی ھے ۔ پاکستان کی قومی خودمختاری بحال ھو سکتی ھےعوام کا کچھ تو خیال ھونا چاھیےعوام کے ھمدرد ان ڈالر ارب پتی حکمرانوں کو

    اپنی دولت کا
    دس فیصدی جمع نھ کرا والوں پر آءندہ پاکستان اور اس کے عوام سے کسی قسم کی منفعت حصل کرنا ۔ کسی قسم کے الیکشن میں حصھ لینا ۔کسی قسم کا لاءسنس حاصل کرنا ممنوع قرار دیا جاءے۔

    SHAUKAT ALI KHAN

    ReplyDelete
  3. کیا وجھ ھے کھ ٹیوی چینلز کو بیک وقت دو شادیاں کرنے والا نوجوان تو نظر آ جاتا ھے مگر عوام کی خاطر فارمولا ٹین باءے ٹین FARMULA 10/10
    نظر نھیں آتا
    ================================


    مغربی ۔ سرمایادارانہ جمھوریت دراصل طبقاتی آمریت ھے ۔ معاشی مساوات کے بغیر حقیقی جمھوریت قاءم ھو ھی نھیں سکتی ۔
    پاکستان اور بھارت کی جمھوریت بلکہ امریکہ اور
    -یورپ کی نام نہاد جمھوریتیں بھی ایک ڈھکوسلا
    محض ایک ڈھونگ ھیں ۔

    ان ممالک میں بالا دست طبقات پردے کے پیچھے بیٹھھ کراصل حکومت کرتے ھیں ۔آگے تو محض کٹپتلیاں ھوتی ھیں ۔عوام کا تو بس نام ھی ھوتا ھے ۔ ان بالا دست طبقات کے ہاتھھ میں ریڈیو ۔ ٹیوی ۔اور پریس کی چابیاں ھوتی ھیں ۔جس طرح کی چابی انھیں دیتے ھیں اسی طرح کی خبریں ۔تبصرے نشر کیے جاتے ھیں ۔ورنہ کیا وجھ ھے کھ ٹیوی چینلز کو بیک وقت دو شادیاں کرنے والا نوجوان تو نظر آ جاتا ھے مگر عوام کی خاطر فارمولا ٹین باءے ٹین نظر نھیں آتا ۔

    FARMULA 10/10
    پاکستان کے بالادست طبقے جن میں بیروکریسی ۔ وڈیرے ۔ چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں ۔ وغیرہ اتنے سادہ نھیں ھیں جتناآپ نے سمجھ لیا ھے ۔یھ لوگ پاکستان کو توڑ دیں گے مگر عوام کو
    ۔کوءی سھولت نھیں دیں گے ۔یھ سب کھچھ
    جو یھ کر رھے ھیں ان کے لیے تو ایک کھیل تماشے
    سے کم نھیں ھے
    لیکن پاکستان کے ٹوٹ جانے سے عوام کا بھت بڑا بھاری نقصان ھو گا ۔
    اتنا
    بڑا نقصان کھ کءی نسلیں روتی رھیں گی ۔لیکن پاکستان کے غافل لوگوں کو تو اس بات کا احساس
    تک نھیں ھے ۔
    اس بات کا اندازہ میں نے اس سے لگایا ھے کھ
    سواے ھماری اپنی ویب کے کسی ٹیوی یا اخبار نے میرے ٹین باے ٹین فارمولا کو نشر ۔ شاءع نھیں
    کیا
    اورنھ ھی کسی فرد نے مجھے کوءی جواب دیا ۔
    اور نھ ھی عمران خان جمعاعت اسلامی اور
    ایم قیو ایم سمیت کسی سیسی پارٹی نے رابطھ کیا ۔صاف ظاھر ھے کھ یھ لوگ بھی صرف عوام کو دھوکہ دینا چاھتے ھیں ۔
    میں نے آج سے دو سال پھلے ایک فارمولا FARMULA 10/10
    پیش کیا تھا ۔ مگر کسی سیاسی پا رٹی نے اسے نھیں اپنایا ۔
    دراصل یھ سب کے سب مفاداتی گروپس ھیں ۔اور نورا کشتی کر رھے ھیں ۔پاکستان کے عوام جب تک اپنے اندر سے قیادت نھیں پیدا کریں گے اسی طرح پستے رھیں گے عوام کی قسمت بدل سکتی ھے پاکستان کی قومی خودمختاری بحال ھوسکتی ھے سیلاب زدگان مکمل بحال ھو سکتے ھیں ۔
    FARMULA 10 /10
    عوام کے بے حد ہمدرد ڈالر ارب پتی سیاستدان - جان وارنے والے ۔ زمین آسمان کے قلابے ملانے والے اور پاکستان کے سرکردہ دس ہزار امیر ترین لوگ اپنی دولت کا دس فی صد پاکستان کے لیے دیں ۔اور آئندہ کے لیے قرضے نھ لینے کا عہد کیا جائے ۔اور لوٹ مار بند کی جائے تو عوام کی قسمت بدل سکتی ھے ۔ پاکستان کی قومی خودمختاری بحال ھو سکتی ھےعوام کا کچھ تو خیال ھونا چاھیےعوام کے ھمدرد ان ڈالر ارب پتی حکمرانوں کو

    اپنی دولت کا
    دس فیصدی جمع نھ کرا والوں پر آءندہ پاکستان اور اس کے عوام سے کسی قسم کی منفعت حصل کرنا ۔ کسی قسم کے الیکشن میں حصھ لینا ۔کسی قسم کا لاءسنس حاصل کرنا ممنوع قرار دیا جاءے۔

    SHAUKAT ALI KHAN

    ReplyDelete
  4. سردی میں گرمی کیوں ۔ چور کی داژھی میں تنکا ۔
    کیا پتہ ایم قیو ایم انقلاب کے معا ملے میں محلض ھے بھی کہ نھیں لیکن وہ لوگ جن کو آتش جھنم تو قبول ھے مگر یہ لفظ قبول نھیں ۔آگ بگولا ھو گءے ۔اور ایک دوسرے کو گالیاں تک دینے پر آ گیے

    بھاءی لوگو 1945 سے لے کر آج تک اسی لفظ کو کچلنے اور بگاڑنے کے لیے ساری دنیا میں اور پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو قتل کیا جا رہا ھے اور پھانسی لگایا جا رھا ھے ۔ طرح طرح کے دھوکے اور جھوٹ بولے جا رھے ھیں ۔ بھیڑ کے روپ میں بھیڑیے سامنے آ رھے ھیں ۔
    دھوکہ اور فراڈ کی پوری ساءنس وضع کی گءی ھے ۔مزھب کو بے دریغ دھوکے کے لیے استعمال کیا جا رہا ھے ۔عوام کو بے شعور رکھنے کے لیے تعلیم سے دور رکھا جا رہا ھے ۔ لیکن اب یہ جنگ اور تیز ھو جاءے گی ۔ آخری فتح مظلوم عوام کی ھی ھو گی ۔ خواہ یہ ظالم کوءی بھی روپ بنا کر آ جاءیں عوام ان کو بل آخر پھچان ھی جاءیں گے ۔

    S A KHAN

    ReplyDelete
  5. AFGHAN WAR WILL BE A LAST NAIL TO THE COFINE OF THE CAPITALISM.

    THIS IS THE REASON THAT THE RULERS OF PAKISTAN
    DO NOT WANT TO STOP IT.

    ReplyDelete
  6. غریبوں ادر بے بسوں کی بدعاءیں فضول نہیں جاتی ۔ یہ زلتیں ۔ بدنامیاں اور موتیں ویسے ھی نہیں ھیں ۔ مگر افسوس لالچ اور دولت کی ھوس کے مارے یہ کوگ کوءی سبق حاصل نہیں کرتے ۔ اور لوگوں کے ساتھھ دھوکے پر دھوکے کر کے اپنی تجوریاں بھرتے جاتے ییں ۔اور ایک دن آتا جو ان کے لیے موت یا زلت یا نااھلی کی رسواءی لیے ھوا ھوتا ھے ۔ان کی حرام کی دولت خود ان کے لیے ھی ناگ بن جاتی ۔پاکستانی عوام کو موجودہ بدترین حالت پر پہنچانے والے کسی صورت زلت ۔ رسواءی سے بچ نھیں سکیں گے ۔

    ReplyDelete
  7. AFGHAN WAR WILL BE A LAST NAIL TO THE COFINE OF THE CAPITALISM.
    THIS IS THE REASON THAT THE RULERS OF PAKISTAN
    DO NOT WANT TO STOP IT.
    THE REAL CONCUSSES OF THE RULING CLASS IN PAKISTAN IS TO HOLD THEIR CLASS DICTATORSHIP UP,AND THEY ARE COMPLETELY SUCCESSFULL IN THIS CASE.
    BUT THEY ARE COMPLETLY FAILED ON NATIONAL PROGRESS,AND NATIONAL AGENDA.

    ReplyDelete
  8. THIS IS BECAUSE THAT THE CLASS (TUBQATI) RULLERS OF PAKISTAN GAVE PROIRTY TO NO THING ELSE EXCEPT TO FIGHT WAR FOR THE CAPITALISM SINCE 1947 AND TO PROTECT THEIR CLASS (TABQATI) RULE. TODAY EVEN THESE CLASS RULLERS OF PAKISTAN ARE NOT PREPAITED TO CHANGE THIS POLICY,NO MATTER PAKISTAN MAY GET DIS MEMBERERED . THAY CANNOT DEMAND EVEN THE LOSS DONE TO PAKISTAN DUE TO THIS WAR. ALL THE CLASS RULLERS OF PAKISTAN,DO NOT TALK EVEN ON THIS TOPIC. NAWAZ SHARIF CRITICIZE PPP BUT DONT DEMAND, THE MASTERS TO GET WAIVED OFF 50 ARAB DOLLAR LOAN, IN VIEW OF 64 YEARS SERVICE , AND 18 LACKH PEOPLE DIED IN AFGHANISTAN.





    THIS IS A REAL FACE OF THE CLASS RULLERS OF PAKISTAN. CLASS RULES ARE THE WADARAS,THE CORRUPTION LORDS, BEAUROCRATES AND THE JARNAILS OF PAKISTAN WHO ALWAYS COME TO POWER ONE AFTER OTHER. THE PRESENT BAYAN OF SHAHBEZ SHARIF, IS AN INDICATOR.

    ReplyDelete
  9. سینکڑوں


    پاکستانی روزانھ بھوک اور بے روزگاری کے ھاتھوں خودکشی کر رھے ھیں مگر دوسری طرف کروڑوں ڈالر ماہانہ کرکٹ پر اڑاءے جا رھے ھیں
    یھ تاج گدایانھ یھ انداز خسرویانہ ۔ الھ ۔الھ ۔

    ReplyDelete
  10. شخصی آمریت ۔ طبقاتی آمریت ۔
    زمانہ قدیم میں جب انسان غار سے نکل کر اجتماعی معاشرت میں آیا تو انھی میں سے طاکتور اور چالاک لوگ باوشاہ بن بیٹھے ۔اور سونے کا نوالا کھانے لگ پڑے ۔پھر انسان نے اور ترقی کی اور جمہوریت کی جانب بڑھا ۔اور جمھوری حکومتیں قاءم کیں ۔یہاں بھی طاکتور اور چالاک لوگ ایک بالا دست طبقہ کے طور پر اس نظام پر چھا گے اور انھوں نے طبقاتی آمریت قاءم کر لی ۔ اور پس پردء بیٹھھ کر اپنی دولت اور اقتدار بچانے کے لیے مقر وفریب کے ہر طرح کھیل کھیلنے لگ پڑے ۔جیسا کہ 1947میں پاک و ھند میں ھندو سرمایھ داروں نے اور مسلمان جگیر داروں نے
    ھندوں اور مسلمانوں کو مزھب کے نام پر لڑوا ویا ۔تاکھ ابھرتے ھوے سوشلسٹ انقلاب کو روکا جا سکے ۔آج تک ھندو سرمایھ دار بھارت میں اور مسلمان جگیردار پاکستان میں حاوی ھیں اور عوام کا خون چوس رھے ھیں ۔ مگر انھوں نی جمھوریت کا لبدہ اوڑھ رکھا ھے ۔ جب کھ ان کے ساتھھ کرپشن اور بیوروکریسی کے لٹیرے ان کے اتحادی ھیں ۔ یھ ھے طبقاتی آمریت ۔ اس آمریت کے تحت عوام کو دو یا تین لٹیرہ پارٹیوں کے امیدوار منتخب کرنے پڑتے ھیں ۔امریکھ اور یورپ کی جمھوریت بھی بلکل یھی ھے ۔دھاں بھی اصل حکومت بلینرز کے ھاتھ میں ھے اور وہ پس پردہ بیٹھ کر آگے کٹپتلیاں نچاتے ھیں ۔

    ReplyDelete
  11. کرکٹ پر خوش ھونے والو- تمھاری ھونے والی

    حا لت پر بھی رونے والا کوءی نھیں ھو گا اے غافلو ۔

    ReplyDelete
  12. کرکٹ پر خوش ھونے والو- تمھاری ھونے والی
    حا لت پر بھی رونے والا کوءی نھیں ھو گا اے غافلو ۔

    ================================================================


    ا اے ظا لمو افغانستان اور پاکستان میں مرنے والے بیس لاکھھ انسانوں کا خون کس کے سر پر ھے ۔
    کرکٹ پر خوش ھونے والو کبھی اپنے ھول ناک مستقبل پر رونے کا وقت بھی ملا ھے تم کو ۔
    کبھی بم دھما کوں اور کراچی اور بلوچستان میں مرنے والے غریب مزدورں پر رونے کا موقع ملا ھے تم کو ۔
    فقر نھ کرو تمھاری ھونے والی حا لت پر بھی

    رونے والا کوءی نھیں ھو گا اے غافلو ۔

    ReplyDelete
  13. کرکٹ پر خوش ھونے والو کبھی اپنے ھول ناک مستقبل پر رونے کا وقت بھی ملا ھے تم کو ۔

    A DANCING NATION ON CIRCUT.

    A GROUP OF FOOLS.

    ReplyDelete
  14. 1947میں پاک و ھند میں ھندو سرمایھ داروں نے اور مسلمان جگیر داروں نے

    ھندوں اور مسلمانوں کو مزھب کے نام پر لڑوا ویا ۔تاکھ ابھرتے ھوے سوشلسٹ انقلاب کو روکا جا سکے ۔آج تک ھندو سرمایھ دار بھارت میں اور مسلمان جگیردار پاکستان میں حاوی ھیں اور عوام کا خون چوس رھے ھیں ۔

    ReplyDelete
  15. THE CAPITALISM IS PLAYING NEW GAMES NOW, JUST AS TO CREAT RELIGIOUS HATERED. THE ONLY CAUSE IS TO DIVERT THE ATTENTION OF ITS OWN PEOPLE TOWARDS ITS FAILURE.

    ReplyDelete
  16. شخصی آمریت ۔ طبقاتی آمریت ۔
    زمانہ قدیم میں جب انسان غار سے نکل کر اجتماعی معاشرت میں آیا تو انھی میں سے طاکتور اور چالاک لوگ باوشاہ بن بیٹھے ۔اور سونے کا نوالا کھانے لگ پڑے ۔پھر انسان نے اور ترقی کی اور جمہوریت کی جانب بڑھا ۔اور جمھوری حکومتیں قاءم کیں ۔یہاں بھی طاکتور اور چالاک لوگ ایک بالا دست طبقہ کے طور پر اس نظام پر چھا گے اور انھوں نے طبقاتی آمریت قاءم کر لی ۔ اور پس پردء بیٹھھ کر اپنی دولت اور اقتدار بچانے کے لیے مقر وفریب کے ہر طرح کھیل کھیلنے لگ پڑے ۔جیسا کہ 1947میں پاک و ھند میں ھندو سرمایھ داروں نے اور مسلمان جگیر داروں نے
    ھندوں اور مسلمانوں کو مزھب کے نام پر لڑوا ویا ۔تاکھ ابھرتے ھوے سوشلسٹ انقلاب کو روکا جا سکے ۔آج تک ھندو سرمایھ دار بھارت میں اور مسلمان جگیردار پاکستان میں حاوی ھیں اور عوام کا خون چوس رھے ھیں ۔ مگر انھوں نی جمھوریت کا لبدہ اوڑھ رکھا ھے ۔ جب کھ ان کے ساتھھ کرپشن اور بیوروکریسی کے لٹیرے ان کے اتحادی ھیں ۔ یھ ھے طبقاتی آمریت ۔ اس آمریت کے تحت عوام کو دو یا تین لٹیرہ پارٹیوں کے امیدوار منتخب کرنے پڑتے ھیں ۔امریکھ اور یورپ کی جمھوریت بھی بلکل یھی ھے ۔دھاں بھی اصل حکومت بلینرز کے ھاتھ میں ھے اور وہ پس پردہ بیٹھ کر آگے کٹپتلیاں نچاتے ھیں ۔
    WHAT NEXT SEE THE COMMING ITEMS

    ReplyDelete
  17. I APPEAL TO ALL THOSE PARTIES WHO REALY WANT TO PERFORM INQLAB IN PAKISTAN, TO GRANT TICKETS TO THE CANDIDATES ALEAST FIRST CLASS M.A., M.SC., PHD, ON ALL THE SEATS IN PAKISTAN, EXCEPT LOCAL BODIES. IT WILL AUTOMATICALLY ELIMINATE WADARS UP TO 90%. THE RMAINNINING 10% WADARAS CAN BE ELIMINATED THROUGH EDUCATION TO THE MASSES.

    IF YOU ARE SINCERE TO INQLAB YOU MUST ACT.



    OHER WISE YOU WILL BE REPEATING MISTAKES LIKE MR. JINNAH AND. MR. BHUTTO.

    ReplyDelete